بدھ، 13 مارچ، 2019

خواجہ اویس قرنی اور حدیث قدسی


         اولیائی تحت قبائی لایعرفھم غیری
          اس دنیاے فانی میں لوگ شہرت و ناموری کی خاطر طرح طرح کے حربےبروے کار لاتے ہیں کچھ تو کامیاب بھی جاتے ہیں مگر چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مصداق چند دنوں میں انکی چمک دھمک دھند ہوجاتی ہے اور یہ المیہ صرف جاھل دنیاداروں تک ہی محدود نہیں بلکہ علما وحکماے مذہب وملت کو بھی شہرت وناموری کی چکا چوندھ نے ہمیشہ اپنے نرغے میں لے رکھا ہے مگر کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کائنات دنیا سے نہیں بلکہ خلاق کائنات سے سروکار ہوتی ہے اور باعث تخلیق کائنات کی محبت ان کے دلوں میں۔ شہرت اور نام نمود سے کنارہ کش اپنی دنیا میں مگن ہوا کرتے ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کی لغتوں اور ڈکشنریوں میں سرنامی، شہرت پسندی اور جاہ طلبی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ مگر اللہﷻ انہیں بے شمار شہرتوں سے بھی نوازتا ہے اور نیک نامی سے بھی۔ انہیں پاکباز، باوقار، عظیم المرتبت شخصیتوں میں ایک نمایاں نام *نادیدہ عاشق رسول، عشق والفت کے تاجدار، اقلیم محبت کے بے تاج بادشاہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ* کا ہے۔ جو شہرت اور نام و نمود سے کنارہ کش رہتے اور مستور رہنے کی کوشش کرتے۔ والدہ کے وصال کے بعد حالت یہ تھی کہ اگر ایک جگہ آپ کے روحانی مقامات اور کمالات کا دنیا کو پتہ چل جاتا تو وہاں نقل مکانی کرجاتے اور چھپتے پھرتے۔ اور تاحیات اس حدیث قدسی کا مصداق بنے رہے
        *اوليائی تحت قبائی لا يعرفهم غيری*
(میرے دوست میرے قبا کے نیچے ہیں جنہیں میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا)
         کیمیائے سعادت میں ہے کہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ بعض راتیں رکوع میں اور بعض سجدے میں گزار دیتے اور فرماتے یہ رات رکوع والی ہے اور یہ رات سجدے والی۔ کسی نے پوچھا کہ حضرت اس قدر قوت آپ میں کیسے آگئی کہ اتنی لمبی راتیں رکوع اور سجدے میں گزار دیتے ہیں۔ فرمایا کاش ازل تا ابد ایک ہی رات ہوتی جو میں رکوع اور سجدے میں گزار دیتا۔
*جلوۂ یار کی رعنائیوں سے انکار کہاں ممکن ہے*
            بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اتنے فضائل کی حامل شخصیت سے صدر اول کے لوگوں کا بے خبر رہنا ممکن نہیں ورنہ روایات میں بکثرت ان کا ذکر ہوتا۔ جبکہ امر واقع یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے علاوہ کسی اور صحابی کی ملاقات کا ذکر نہیں ملتا۔ حیرت کی بات ہے کہ حضرت کے احوال و آثار اور فضائل و مناقب اس قدر کثرت اور تواتر سے مذکور ہونے کے باوجود بعض لوگ آپ کی شخصیت کے منکر ہیں یہ لوگ اپنے دعویٰ میں بعض ان روایات کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جو بہت کمزور ہیں اور جن میں باہم تضاد پایا جاتا ہے۔
چونکہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ دنیا کی نظروں سے چھپتے پھرے اور بعض خواص کے علاوہ اہل قرن بھی ان سے واقف نہیں تھے اور جو جانتے تھے وہ بھی انہیں صرف ایک دیوانہ ہی تصور کرتے رہے۔ اس لئے اگر اس دور کے بعض اہل علم نے ان کے بارے عدم واقفیت کا اظہار کیا ہو تو تعجب کی بات نہیں۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ہے کہ "اگر کوئی چیز کسی کے ہاں پایہ ثبوت کونہ پہنچی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ دوسروں کو بھی اس کا علم نہ ہو"
           نیز ہر زمانے کا یہ دستور رہا ہے کہ صرف انہیں افراد واشخاص کے حالات و واقعات لوگوں کے علم میں آتے ہیں جو کسی حیثیت سے نمایاں ہوں۔ شہرت کو ناپسند کرنے والے عزلت نشینوں کے بارے میں ایک عرصہ تک اہل قلم تک ناواقف رہتے ہیں جس کا ایک واضح ثبوت صحابہ کرام کا دور ہے۔ خود صحابہ کرام کے متعلق یہ دعویٰ محال ہے کہ سبھی صحابہ کرام سے اس عہد کے لوگ آگاہ تھے یا ان کے تمام احوال وکوائف زد تحریر کئے گئے۔ آج صرف انہیں صحابہ کے حالات بقدر سعی و جستجو معلوم ہیں۔ جنہوں نے کوئی علمی یا عملی کارنامہ سرانجام دیا یا سلسلہ روایت میں جن کا کہیں ذکر ہوگیا بس! حد تو یہ ہے کہ بعض حضرات کے صرف نام ہی معلوم ہیں کنیت میں اختلاف ہے تو کسی کی کنیت کا تذکرہ ہے مگر اس کے نام میں بہت سارے اختلاف ہیں اور یہی صورت حال مدت مدید تک حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ گوشہ نشین تابعی کے ذکر و اذکار سے متعلق رہی۔
           اب رہا یہ سوال کہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی ولایت کے اخفا کی وجہ کیا تھی اور آپ دور صحابہ میں کیوں مستور الحال رہے؟ تو اس کا ایک جواب تو وہی ہے جو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقات شرح مشکوۃ میں بیان فرمایا کہ چونکہ حضرت خواجہ مستجاب الدعوات تھے (اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کرانے کی تلقین فرمائی تھی نیز ان کے بارے فرمایا تھا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قسم اٹھادیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرمادیتا ہے{معینی} چونکہ ایسے لوگوں کی خدمت میں ہر نیک و بد اور مجرم بھی دعا کا طالب ہوتا ہے اور یہ جمالی مردان خدا کسی کو انکار نہیں کرسکتے یہ ممکن نہ تھا کہ نیک کے لئے دعا کرتے اور دوسروں کو نظر انداز کردیتے۔ چونکہ یہ بات حکمت الہٰی کے خلاف تھی اس لئے ان کا حال پوشیدہ رہا۔ دوسری وجہ مستور رہنے کی مولف لطائف نفیسیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اولیاء کی ایک جماعت کا اپنے آپ کو چھپانا اس غیرت کی وجہ سے ہوتا ہے جو محب کو اپنے محبوب کے بارے ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت محی الدین ابن عربی کتاب فتوحات میں لکھتے ہیں۔
"طائفہ محبان میں غیرت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے وہ بسبب غیرت چھپے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ غیرت محبت کا ایک وصف ہے چنانچہ یہ لوگ اپنے محب ہونے کو ظاہر نہیں ہونے دیتے"
حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ حضور نبی کریمﷺ کے دور میں رجال الغیب میں شامل تھے اور یہ لوگ مستور الحال ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ملا علی قاری معدن العدنی میں لکھتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضورﷺ کے عہد میں قطب ابدال حضرت اویس رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہ مخفی الحال تھے امام یافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت شدہ رشک غیرت کی وجہ سے قطب ابدال لازماً مستور الحال ہوتا ہے انہیں کے بارے میں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔
          *اولياء تحت قبائی لا يعرفهم غيری*

بدھ، 27 فروری، 2019

اساتذۂ کرام کی مشفقانہ شان

ہمارے مشفق اساتذۂ کرام کے مقام و مرتبہ کا  عالم یہ ہے کہ اس کو نہ تو قلم کی سیاہی نہ ہی کاپیوں کے اوراق نہ ہی ہماری زبان سے مکمل بیان کیا جا سکتا ہے مگر بندۂ ناچیز اللّٰہ کے کرم اور اس کے رسول کی عطاء سے اپنے اساتذۂ کرام کی شان میں چند الفاظ رقم کر رہا ہے
انسان کے لیۓ سب سے بڑی نعمت ایمان ہے اس کے بعد اگر کوئی سب سے عظیم نعمت ہے تو وہ علم کی نعمت ہے ایمان کے علاوہ علم سے بڑھ کر کوئی نعمت ہی نہیں تو جب کوئی طالب علم اس عظیم نعمت کے کسب کے لئے کسی مکتب یا مدرسے کا رخ کرتا ہے اور اللّٰہ رب العزت اس طالب علم کو اس عظیم نعمت سے سرفراز فرماتا ہے اور اللّٰہ رب العزت اپنی بارگاہ میں اسے قبول کر لیتا ہے اور وہ طالب علم اس میدان میں خوب کد و کاوش کرکے دن اور رات ایک کر کے پوری دلجمعی کے ساتھ علم دین کو حاصل کرتا ہے اور خصوصاً قرآن و حدیث کے علوم اور مسائل دینیہ کو حاصل کرکے اللّٰہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نظر میں محبوب ہو جاتا ہے
اب دیکھیں کہ طالب علم کی اس حد درجہ کامیابی اور کامرانی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اس کا سبب کون شخص ہے تو بلا شک و شبہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کی اس نجاح کا سبب اس کے مشفق اساتذۂ کرام ہیں جنہوں نے طالب علم کو قرآن و حدیث کا درس دیا تو اس حدیث کے ضمن سے
(عن عثمان قال قال رسول اللَّهﷺ خير كم من تعلم القرآن وعلمه ( بخاری شریف ج دوم صفحہ752
ترجمہ-- حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نبی کونین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن کریم کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا

وہ اساتذۂ کرام بے حد افضل و برتر مرتبہ والے ہیں اور وہ اللّٰہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نظر میں بہت ہی محبوب ہیں اور ان کی بارگاہ میں مقبول ہیں تو جن اساتذۂ کرام کا یہ مقام و مرتبہ ہو تو ان کے کسی بھی قول و فعل کو مزاح بنانا یا کسی بھی طریقۂ کار کی تندید کرنا یا ان کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی کرنا جرم عظیم ہوگا اور اس سے ان کی شخصیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا یہ محض ہمارے خسارے کا سبب ہوگا
نتیجۂ گستاخی آج کل طلباء کی علمی افسردگی اور عزائم کی پژمردگی کو مشاہدہ کرنے کے بعد شدید رنج و صدمہ ہوتا ہے کہ تعلیم و اخلاق کی اس قدر انحطاط وتنزل کیوں ہے؟
حالانکہ ہمارے اکابرین انھیں درسگاہوں سے ماضی میں آسمان علم و ھدایت کے آفتاب و ماہتاب بن کر نکلے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب حصول علم کے اسباب و وسائل اس کثرت سے مھیا نہ تھے اور آج اکتساب علم کے آلات و ذرائع کی فراوانی کے باوجود اس قدر علمی انحطاط و تنزل؟ آخر اس کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ بہت ہی غور وفکر کے بعد نتیجہ برآمد ہوا کہ اس کے پیچھے صرف ایک وجہ ہے جس بناء پر لوگ علم و اخلاق کی پستی کے شکار ہیں اور وہ ہے اساتذۂ کرام کی شان میں گستاخی کرنا ہے لھذا اس فعل بد سے ہمیں گریز کرنا چاہئے تاکہ کسی قسم کے خسارے کا سامنا نہ کرنا پڑے
خلاق کائنات کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ وہ ہمیں اس برے فعل سے محفوظ رکھے
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم

ازقلم:محمد آصف نواز فیضی

پیر، 25 فروری، 2019

بنیان الاسلام


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ  قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ
[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 7،حدیث مرفوع، متفق علیہ]

Narrated Ibn 'Umar (RA) : Allah's Apostleﷺ said: Islam is based on (the following) five (principles):
1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammadﷺ is Allah's Apostle(Messanger).
2. To offer the (compulsory congregational) prayers dutifully and perfectly.
3. To pay Zakat (i.e. obligatory charity).
4. To perform Hajj. (i.e. Pilgrimage to Makkah)
5. To observe fast during the month of Ramadan.
اردو ترجمہ:-حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد اللہ کے سچے رسول ہیںﷺ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا"
تخریج اس حدیث کی تخریج حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے امام بخاری نے ایک جگہ، امام مسلم نے 4، امام ترمذی نے 2، امام نسائی نے ایک اور امام احمد ابن حنبل نے 4 مقام پر روایت کی ہے
اسلام مثل خیمہ یا چھت کے ہے اور یہ پانچوں اس کے وہ ستون ہیں جن میں سے کسی ایک کا انکار پوری عمارت یعنی اسلام منہدم کردے گا 
فوائد ومسائل عام طور سے عمارتوں کے چار دیوار یا ستون ہوتی ہیں یہاں بھی وہی بات ہے کہ اول الذکر اصل بنیاد ہے اور مابقیہ بھی بنیاد ہیں مگر فرعی کیونکہ پہلے کا تعلق ایمان سے ہے اور بقیہ چاروں کا تعلق میدان عمل سے ہے لہذا خداورسول پر ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں۔
ایمان دل کی کیفیت کا نام ہے جو تصدیق بالقلب کہلاتی ہے،اقرارباللسان اور عمل علی الاحکام اسکے جزء نہیں البتہ اقرارباللسان اجرائے احکام کے لئے شرط ہے جو بعض مواقع مثلاً اکراہ کے وقت ساقط ہوجاتی ہے اور احکام پر عمل پیراہونا علامت ایمان ہے۔
اللہ تعالی کی ذات وصفات پر ایمان کے ساتھ اسے واحدویکتا اور لاشریک ماننا ضروری ہے یونہی حضور نبی کریمﷺ کو اللہ کا بندہ ورسول ماننے کے ساتھ انکے فضائل وکمالات کا اعتراف بھی ضروری ہے مثلاً آپ کو سیدالانبیاء، خاتم النبیین، مالک ومختار، صاحب شفاعت وجنت، علم غیب کا جانکار وغیرہ۔
فائدہ نمازقبل ہجرت معراج مبارک میں فرض ہوئی،زکوۃ اور روزہ ۲ھ میں،حج ۸یا۹ ھ میں۔
ان پر مفصل تحریر آئندہ قسطوں میں ملاحظہ فرمائیں☜
ازقلم:محمد شعیب رضا نظامی فیضی
خادم التدریس والافتا دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور،سدھارتنگر یوپی
رابطہ نمبر9792125987

ہفتہ، 23 فروری، 2019

تاج الشریعۃ:حیاتہ وخدماتہ



بسم اللہ الرحمن الرحیم

قدانجبت ارض الھند فی ادوارھا التاریخیۃ رجالاً سارت بشھرتھم الرکبان الی أنحاء العالم۔ وفیھم ملوک عظام مثل الملوک المغولی الشھیر أورنگزیب عالمگیر، والمحدثون الکبار مثل المحدث الشھیر الشاہ ولی اللہ محدث الدھلوی، ودعاۃ مخلصون مثل الشیخ سلطان الھند غریب نواز خواجہ معین الدین حسن الجشتی الاجمیری،وعلماء الراسخون مثل الشیخ العالم العلامۃ المفتی امام احمد رضا خان القادری مجدد مأۃ ماضیۃ وغیرھم من الادباء والشعراء والفقہائ۔ ومن ھؤلاء النجباء ونوابغ الدھر السیخ للاسلام والمسلمین الشاہ اختر رضا خان الازھری البریلوی علیہ الرحمۃ


ولد الشیخ الامام اختر رضا خان الازھری یوم الرابع والعشر من شھر ذی القعدۃ لعام احد وستون واربع ماء ۃ بعد الالف من ھجرۃ سید المرسلینؐ فی مدینۃ بریلی الشریفہ ونشاء کما رائنا فی بیت۔ علمٍ وفضلٍ وکرامۃٍ ومجدٍ فی النسب الطیب الغنی مع التصلب فی الدین والرسوخ فی العقیدۃ وحب العلم والعلماء ۔ وکان والدہ وجدہ عالمین فاضلین "الشیخ ابراھیم رضا خان" المعرف بہ "مفسر القرآن" و"الشیخ حجۃ الاسلام المولانا حامد رضا خان" فتربی تاج الشریعۃعلی ید ابیہ وجدہ الکریم المفتی محمد مصطفی رضا خآن المعروف بـ"مفتی الاعظم للھند" ۔ فواصل والدہ بمھمۃ تربیتہ وتعلیمہ، ولقد ربیٰ ابنَہ فاحسن تربیتَہ وادبہ فکان مربیا لروحہ مع جسدہ مھذَباً لعقلہ ،لتھذیبہ ولاعمالہ ،ولذا لما سافر تاج الشریعۃ الی جماعۃ الازھر بالقاہرۃ الشریفہ لحصول علم الدین من "کلیۃ اصول الدین" فلا یتغیر خلقہ وتھذیبہ وادابہ ، وکمل ھُنا قسم "التفسیر والحدیث" بدرجۃ الاولی فی کل قسماتٍ من جامعۃ الازھر ونا جائزۃ "جامعۃ الازھر" بید صدر المصر "جرنل عبدالناصر" وحصل "سند الفراغۃ والتحصیل لعلوم السلامیۃ" وبعدہ رجع الی وطنہ المالوف "بریلی الشریفہ" فذھب "المفتی الاعظم للھند" رحمہ اللہ بنفسہ الی رصیف المحطۃ ببریلی الشریفہ وقبل جبینَ تاج الشریعۃ وقال"ان بعض الطلاب قد ذھب الی جامعۃ الازھر وتغیر خلقہ کقوم غیرہ لٰکن ابنی ھٰذا لایتمکن التغییرَ الخُلقی تاثیرُ الجامعۃ الازھر"

کان الشیخ اختر رضا الازھری نجماًثاقباً وبدراً طالعاً فی آفاق التصوف ومطالع العلوم وعلماً من اعلام الدین وناشطا قویاً فی مجال الدعوۃ الاسلامیۃ وزعیماً من اکبر زعماء العلم والدین وقائداً من اعظم قادۃ الجیل الاسلامی ورائداً من ابرز رواد النھضۃ الاسلامیۃ خصوصاً "الصلحۃ الکلیۃ" الذی لہ فضل کبیر فی نشر "مسلک اعلیحضرۃ" والعلوم القیمۃ التی ترکھا(کـ لوراثۃ) جدہ الکریم الامام الھمام قدوۃ علماء الاسلام الشاہ امام احمد رضا خآں مجدد مأ ۃ ماضیۃ رضی اللہ تعالی عنہ

واشتھرت الامام العلامۃ المفتی اختر رضا خان القادری بتاج الشریعۃ فی شتی نواحی العلم المعرفۃ بین الاوساط العامۃ والخاصۃ فی شبہ القارۃ الھندیۃ وغیرھا من الالقابات الجلیلۃ والرفیعۃ ۔

قام الشیخ تاج الشریعۃ بعد رجوعہ الی الھند من الازھر الشریفۃ بالتألیف وتحریر المسائل والافتاء والرد علی الوھابیۃ واھل الاھواء والبدع والضلالۃ والصلح الکلیۃ کلما حاول ھؤلاء الضالون المضلون لایقاد نار البدعۃ فی افکار عامۃ الناس وترویج بضاعتھم الکاسدۃ فی اسواق المسلمین انتبہ الشیخ لھٰذہٖ المحاولات واطفأ نیران البدعۃ برسائلہ الساحرۃ۔ وثبت قوائم السنۃ الشریفۃ بالحجج الباھرۃ الادلۃ الظاھرۃ۔

مما تدل علی تبحرہ فی التفقہ فی الدین والافتاء مجموعتہ الفتاوی "العطایا الرضویہ فی الفتاوی الازھریہ" فی خمس مجلداتٍ ضخیماتٍ۔

انتقل ھٰذا العالِم النحریر والامام الکبیر الی جوار ربہ الغفور ستۃ ذی القعدۃ۱۴۴۰ھج موافق 20جولائی۲۰۱۸ع بیوم الجمعۃ المبارکۃ تغمدہ اللہ مولانا بواسع رحمتہ وجمعنا معہ فی فسیح جنانہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم واللہ یقول الحق ویھدی الی السبیل۔


بقلم: محمد شعیب رضا نظامی الفیضی
خویدم التدریس بدارالعلوم امام احمد رضا بندیشرفور،سدارتنغر الولایۃ الشمالیۃ من الھند

جمعہ، 15 فروری، 2019

انماالاعمال بالنیات

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 430 (متفق علیہ)
It has been narrated on the authority of Umar bin al-Khattab that the Messenger of Allahﷺ said: (The value of) an action depends on the intention behind it. A man will be rewarded only for what he intended. The emigration of one who emigrates for the sake of Allah and His Messengerﷺ is for the sake of Allah and His Messengerﷺ; and the emigration of one who emigrates for gaining a worldly advantage or for marrying a woman is for what he has emigrated.
اردو ترجمہ:-سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا : ” عملوں کا اعتبار نیت سے ہے اور آدمی کے واسطے وہی ہے جو اس نے نیت کی، پھر جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے واسطے ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول ہی کے لیے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت کے بیاہنے کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے “
فوائد ومسائل:-اس حدیث کوحضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہی امام بخاری نے صحیح بخاری میں6 جگہ، امام مسلم نے  2 جگہ، امام ابودائود نے ایک جگہ، امام نسائی نے 3 جگہ اور امام ترمذی نے ایک اور امام احمد نے 2 مقام پر روایت کیا ہے
تمام مسلمانوں کا اس حدیث کی اہمیت وعظمت پر اجماع اور اتفاق ہے، اس حدیث کے فوائد بہت زیاد ہیں؛فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ثلث اسلام ہے  امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے فقہ میں ستر ابواب ہیں۔
*نیت* کا معنی ہوتا ہے قصد وارادہ سے کسی کام کو معین کرنا، حدیث مذکورہ میں ہے ’’انماالاعمال بالنیات‘‘ اعمال کا دارومدار نیوتوں پر ہے۔ اس حدیث سے باب مسائل میں ائمہ مجتھدین کا اختلاف ہے چناچہ ائمہ ثلاثہ نے اسکا معنی ’’صحت اعمال کا مدار نیت پر ہے‘‘ نکالتے ہوئے باب طہارت میں اسے واجب قرار دیا ہے کہ بغیر نیت کے وضو،غسل نہیں ہوگا۔ جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب نے اسکا معنی ’’کاملیت اعمال یا ثواب اعمال کا مدار نیت پر ہے‘‘ بیان فرمایا اور باب طہارت میں اسے واجب نہیں بلکہ سنن ومستحبات میں شمار کراتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی شخص بغیر نیت کے صرف اعضائے وضو وغسل دھولے تو اسکا وضو وغسل ہوجائے گا۔ امام مالک علیہ الرحمہ سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے
       بہرحال باب فضائل میں اسکا کردار نہایت اہم ہے چناچہ امام سمعانی فرماتے ہیں کہ جو اعمال عبادات سے خارج ہیں اگر ان میں بھی عبادات کی نیت کرلی جائے تو ان پر بھی ثواب ملتاہے، مثلاً کوئی شخص کھانے،پینے میں عبادت کے لئے تقویت حاصل کرنے کی نیت کرے، اور سونے میں تھکاوٹ زائل کرکے مزید عبادت کرنے کے لئے توانائی حاصل کرنے کی نیت کرے، اور مجامعت میں گناہوں اور بےحیائیوں سے بچنے کی نیت کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا۔
علاوہ ازیں فقہائے کرام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک عمل میں متعدد اعمال کی نیت کرلی جائے تو اسکا بھی ثواب ملتا ہے اگرچہ دیگر اعمال کرنے کا موقع میسر نہ آئے یہاں تک کہ فقہائے کرام نے صرف ایک عمل یعنی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانے پر چالیس سے زائد اعمال کی نیت بیان فرمائی ہے

ازقلم:محمد شعیب رضا نظامی فیضی
خادم التدریس والافتا دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور،سدھارتنگر یوپی
رابطہ نمبر9792125987

بدھ، 17 اکتوبر، 2018

دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول


مزار حضور شعیب الاولیاء لقد رضی المولی عنہ 

نادرالوجود مسجد حضور شعیب الاولیاء 

 ہر قوم کی فلاح و بہبود کا دارومدار تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے اور تعلیم ہیں وہ شٸ عظیم ہیں جو انسان کو غیر انسان سے ممتاز کرتی ہے اور اسی سے انسان کی کردار سازی ہوتی ہے برصغیر ہند میں مدارس اسلامیہ نے قوم کی فلاح وبہبودی کا ذمہ اپنی کاندھوں پر لے رکھا ہے ملک و بیرون ملک میں ہزاروں مدارس پوری آن،بان اور شان کے ساتھ ملت اسلامیہ کی کردار سازی میں مصروف عمل ہیں انہیں اسلامی قلعوں میں ایک مضبوط و باوقار قلعہ ”دارالعلوم اھلسنت فیض الرسول براؤں شریف“ ہے
 اترپردیش کے شمال و مشرق علاقے میں واقع یہ دارالعلوم شیخ المشائخ شعیب الاولیاء حضور الشاہ محمدیارعلی لقد رضی المولی عنہ المعروف بہ”شاہ صاحب“ کی عظیم یادگار اور ہندوستان کی قدیم درسگاہ اور دینی تعلیم کامعیاری دانشگاہ ہے دارالعلوم فیض الرسول مسلمانان ہند بالخصوص طالبان علوم نبویہ کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے،جس میں اعلی دینی تعلیم دی جاتی ہے
 دارالعلوم میں مختلف شعبہ جات ہیں جو اپنی تعلیمی،تربیتی،تحریری،تقریری  امور میں سرگرم عمل ہیں تعلیمی وتربیتی شعبہ جات میں شعبہ تحقیق و تخصص شعبہ نظامیہ شعبہ  حفظ و قرات شعبہ کمپیوٹر شعبہ تربیت درس و تدریس اور شعبہ تربیت یافتہ جب کہ اشاعتی میدان میں دارالاشاعت فیض الرسول قابل الذکر ہے جو فتاوی فیض الرسول (٢ جلد) اور متعدد کتب شائع کر چکا ہے اورہرسال فیض الرسول جنتری کے  علاوہ ہر ماہ ماہنامہ فیض الرسول شائع کرتا ہے اور ملت اسلامیہ  بالخصوص علمائے کرام کے دوران ربط ضبط برقرار رکھنے کے لئے تنظیم ابنائے فیض الرسول ہے
 اس ادارے کی نظامت  کی باگ ڈور شہزادہ حضور شعیب الاولیاء مفکر اسلام علامہ غلام عبدالقادر علوی صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی کے ہاتھوں میں ہے اور قیادت آپ کے شہزادہ بلند اقبال حضرت علامہ آصف علوی ازہری صاحب قبلہ فرمارہے ہیں جس کی بناءپر دارالعلوم فیض الرسول روز افزوں ترقی و کی جانب گامزن ہے اور دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کی ذمہ داری فضیلۃ الشیخ حضرت علامہ علی حسن علوی ازہری وہ دیگر مایہ ناز اساتذہ کرام کے کاندھوں پر ہے جو نہایت انہماک ومستعدی کے ساتھ طالبان علوم نبویہ کی علمی پیاس بجھانے میں مصروف کار ہیں  جس کی بدولت آج اس ادارے کے فارغ التحصیل علماء ملک و بیرون ملک افریقہ امریکہ یورپ وغیرہ مختلف ممالک اور شہروں میں تدریسی تنظیمیں دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں
ﺍﺱ ﺍﺩﺍﺭﮦ کا قیام ١٣٦٥ھج مطابق ١٩٤٥ع کو عمل میں آیا اس ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﮍﮮ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﺍ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮﻭﻣﺮﺷﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻋﻠﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﺸﺎﮦ ﺍﻣﺎﻡ
ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺿﺎ ﺧﺎﻥ ﻓﺎﺿﻞ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﻋﻠﯿﮭﻤﺎ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻃﻠﺒﮧ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺗﻠﻤﺬ ﺗﮧ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﻣﺼﻤﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺍﮐﺮ ﺩﺭﺱ ﻭﺗﺪﺭﯾﺲ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺍﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ " ﺩﺍﺭﺍﻟﻔﻘﮧ ﻭﺍﻟﺤﺪﯾﺚ " ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ، ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﻋﻤﺎﺭﺗﯿﮟ ﻣﻌﺮﺽ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﺣﺎﻃﮧ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻨﭩﺮﻝ ﺑﻠﮉﻧﮓ، ﺩﻭ ﺩﺍﺭﺍﻻﻗﺎﻣﮧ ‏( ﮬﺎﺳﭩﻞ ‏) ، ﺩﺭﺳﮕﺎﮦ، ﺩﺍﺭﺍﻟﺘﻔﺴﯿﺮ، ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﺪﯾﺚ، ﺩﺍﺭﺍﻟﺘﺤﻔﯿﻆ ﻭﺍﻟﺘﺠﻮﯾﺪ، ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻻﺋﺒﺮﯾﺮﯼ، ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ، ﮔﯿﺴﭧ ﮨﺎﺅﺱ، ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﺣﻀﻮﺭ ﺷﻌﯿﺐ ﺍﻻﻭﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﯿﻊ ﻭﻋﺮﯾﺾ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﯿﮟ

Comments