بدھ، 17 اکتوبر، 2018

دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول


مزار حضور شعیب الاولیاء لقد رضی المولی عنہ 

نادرالوجود مسجد حضور شعیب الاولیاء 

 ہر قوم کی فلاح و بہبود کا دارومدار تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے اور تعلیم ہیں وہ شٸ عظیم ہیں جو انسان کو غیر انسان سے ممتاز کرتی ہے اور اسی سے انسان کی کردار سازی ہوتی ہے برصغیر ہند میں مدارس اسلامیہ نے قوم کی فلاح وبہبودی کا ذمہ اپنی کاندھوں پر لے رکھا ہے ملک و بیرون ملک میں ہزاروں مدارس پوری آن،بان اور شان کے ساتھ ملت اسلامیہ کی کردار سازی میں مصروف عمل ہیں انہیں اسلامی قلعوں میں ایک مضبوط و باوقار قلعہ ”دارالعلوم اھلسنت فیض الرسول براؤں شریف“ ہے
 اترپردیش کے شمال و مشرق علاقے میں واقع یہ دارالعلوم شیخ المشائخ شعیب الاولیاء حضور الشاہ محمدیارعلی لقد رضی المولی عنہ المعروف بہ”شاہ صاحب“ کی عظیم یادگار اور ہندوستان کی قدیم درسگاہ اور دینی تعلیم کامعیاری دانشگاہ ہے دارالعلوم فیض الرسول مسلمانان ہند بالخصوص طالبان علوم نبویہ کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے،جس میں اعلی دینی تعلیم دی جاتی ہے
 دارالعلوم میں مختلف شعبہ جات ہیں جو اپنی تعلیمی،تربیتی،تحریری،تقریری  امور میں سرگرم عمل ہیں تعلیمی وتربیتی شعبہ جات میں شعبہ تحقیق و تخصص شعبہ نظامیہ شعبہ  حفظ و قرات شعبہ کمپیوٹر شعبہ تربیت درس و تدریس اور شعبہ تربیت یافتہ جب کہ اشاعتی میدان میں دارالاشاعت فیض الرسول قابل الذکر ہے جو فتاوی فیض الرسول (٢ جلد) اور متعدد کتب شائع کر چکا ہے اورہرسال فیض الرسول جنتری کے  علاوہ ہر ماہ ماہنامہ فیض الرسول شائع کرتا ہے اور ملت اسلامیہ  بالخصوص علمائے کرام کے دوران ربط ضبط برقرار رکھنے کے لئے تنظیم ابنائے فیض الرسول ہے
 اس ادارے کی نظامت  کی باگ ڈور شہزادہ حضور شعیب الاولیاء مفکر اسلام علامہ غلام عبدالقادر علوی صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی کے ہاتھوں میں ہے اور قیادت آپ کے شہزادہ بلند اقبال حضرت علامہ آصف علوی ازہری صاحب قبلہ فرمارہے ہیں جس کی بناءپر دارالعلوم فیض الرسول روز افزوں ترقی و کی جانب گامزن ہے اور دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کی ذمہ داری فضیلۃ الشیخ حضرت علامہ علی حسن علوی ازہری وہ دیگر مایہ ناز اساتذہ کرام کے کاندھوں پر ہے جو نہایت انہماک ومستعدی کے ساتھ طالبان علوم نبویہ کی علمی پیاس بجھانے میں مصروف کار ہیں  جس کی بدولت آج اس ادارے کے فارغ التحصیل علماء ملک و بیرون ملک افریقہ امریکہ یورپ وغیرہ مختلف ممالک اور شہروں میں تدریسی تنظیمیں دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں
ﺍﺱ ﺍﺩﺍﺭﮦ کا قیام ١٣٦٥ھج مطابق ١٩٤٥ع کو عمل میں آیا اس ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﮍﮮ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﺍ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺷﺎﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮﻭﻣﺮﺷﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻋﻠﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﺸﺎﮦ ﺍﻣﺎﻡ
ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺿﺎ ﺧﺎﻥ ﻓﺎﺿﻞ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﻋﻠﯿﮭﻤﺎ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻃﻠﺒﮧ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺗﻠﻤﺬ ﺗﮧ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﻣﺼﻤﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺍﮐﺮ ﺩﺭﺱ ﻭﺗﺪﺭﯾﺲ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺍﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ " ﺩﺍﺭﺍﻟﻔﻘﮧ ﻭﺍﻟﺤﺪﯾﺚ " ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ، ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﻋﻤﺎﺭﺗﯿﮟ ﻣﻌﺮﺽ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﺣﺎﻃﮧ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻨﭩﺮﻝ ﺑﻠﮉﻧﮓ، ﺩﻭ ﺩﺍﺭﺍﻻﻗﺎﻣﮧ ‏( ﮬﺎﺳﭩﻞ ‏) ، ﺩﺭﺳﮕﺎﮦ، ﺩﺍﺭﺍﻟﺘﻔﺴﯿﺮ، ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﺪﯾﺚ، ﺩﺍﺭﺍﻟﺘﺤﻔﯿﻆ ﻭﺍﻟﺘﺠﻮﯾﺪ، ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻻﺋﺒﺮﯾﺮﯼ، ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ، ﮔﯿﺴﭧ ﮨﺎﺅﺱ، ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﺣﻀﻮﺭ ﺷﻌﯿﺐ ﺍﻻﻭﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﯿﻊ ﻭﻋﺮﯾﺾ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﯿﮟ

Comments

رسالہ لامیہ

رسالہ لامیہ عنقریب منظر عام پر